Wednesday, October 27, 2010

فشنگ Phishing Hacking technique

ہیکنگ جیسے حساس موضوع پر لکھنے سے پہلے پڑھنے والوں سے ہماری گزارش ہے کہ  ہم یہ معلومات صرف اور صرف تعلیمی اور ہیکنگ سے بچنے جیسے مقاصد کے لیے شایع کرتے ہیں۔ ہم اس کے کسی قسم کے غلط استعمال کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور اس کے نا جایز اور مجرمانہ استعمال کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

آج جس موضوع پر معلومات سے آپ کو آگاہ کریں گے اس کو فشنگ کہتے ہیں۔ فشنگ ہیکنگ کی دنیا میں ایک ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے ہیکرز آپ کی حساس معلومات کو خود آپ سے ھی اپنے آن لاین فولڈرز میں ارسال کرواتا ہے۔ ہے نا مزے کی بات کہ آپ خود ھی کسی کو اپنا آی۔ڈی اور پاسورڈ بھیج رہے ہیں اور آپ کو پتا تک نہیں۔ جی ایسے ھو رھا ھے۔  اپنے ای میل اور ھر طرح کے  آن لاین اکاونٹس کو صرف اور صرف اپنے متعلقہ نیٹ ورک کی ویب سایٹ سے ھی ایکسس کریں۔

فشنگ کے ذریعے ہیک کرنے والا آپ کو ای۔میل بھجے گا جس میں آپ کی کسی ممکنہ کمزوری کو استعمال کرنے کی کوشش کرے گا جیسے کسی پرکشش جاب کی آفر، آن لاین لاٹری، بنک اکاونٹ اپ ڈیٹ،مفت خدمات فراہم کرنے والی کسی کمپنی کی طرف سے کوی خاص آفر اور سیکس سے متعلقہ بات ہو سکتی ہے بہت معزرت کے ساتہ یہ کہتا چلوں کہ بین الاقوامی اعداو شمار کے مطابق ہمارے پاکستانی جیالے سیکس سرچ میں پیش پیش ہیں۔ گویا کہ یہ ہمارا قومی کھیل ہو۔ ایسی ھی کسی ای میل میں ہیکر کے بناے ہوے جال کے لنکس ہو سکتے ہیں۔ ہیکر آپ کو ان لنکس میں سے کسی کو کلک کرنے کو کہے گا اور وہ لنک آپ کو اسکی سایٹ پر لے جاے گا۔ مثال کے طور پر ھیکر آپ کا گوگل کا ای میل ھیک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ وہ آب کے کسی ای میل میں آپ کو میل بھیجے گا جس میں وہ ھی لنک ھو گا جس کا ذکر ابھی ہوا ہے ۔ لنک کو کلک کرتے ھی آپ گوگل کے لوگ ان پیج  پر پہنچ جایں گے۔ لیکن یہ دراصل گوگل کا پیج نہیں ھو گا۔یہ ھیکر صاحب کا بنایا ہوا بالکل گوگل کے ای میل لوگ ان پیج کی طرح ھو گا ۔اسی وقت اگر آپ براوزر کی ایڈریس بار میں غور سے دیکھں گے تو آپ کو ھیکر کے فراڈ ڈومین کا نام  بھی معلوم ھو جاے گا۔ جب آپ اس پیج کے ذریعے اپنے گوگل اکاونٹ کو ایکسس کرنے کی کوشش کریںگے تو اپ کا یوزر نیم اور پاسورڈ ھیکر کے کسی ان لاین ھو سٹڈ فولڈر میں منتقل ھو جاے گا۔ اور آب حیران ھو کے تھوڑی دیر انتظار کریں گے اور سوچیں گے کہ پتا نہیں لوگ ان کیوں نہیں ھو رھا۔ آپ کو کیا پتا کہ آپ خود ھی اپنی معلومات اپنے ھیکر بھای کو سونپ چکے ہیں۔  

ہم سب جانتے ہیں کہ ھمارے ای۔میلز میں روزانہ بن بلاے مہمان کی طرح بہت ساری ایسی میلز ہوتی ہیں جن کے بارے میں
ہمیں گمان تک نہیں ھوتا۔ یاد رہے کہ یہ خطرناک ہو سکتی ھیں ۔ کبھی کسی ایسے لنک کو کلک نہ کریں جس کے بارے میں آپ کو پتا نہیں ھے۔ یا ایسی ای میل نہ کھولیں جو بن بلاے نازل ھوی ھو اور اپ کو اس کا پتا نہ ھو۔ اپنے حساس آن لاین اکاونٹس کو صرف اپنے سروس پرو وایڈر کی ویب سایٹ سے ہی ایکسس کریں۔ کسی کے ساتھ اپنا پاسورڈ شیر نہ کریں۔ آپ کے بنک کبھی بھی آپ سے پاسورڈ نہیں پوچھتے۔ اگر کوی آپ سے ای میل یا فون پر آپ کے بنک کی طرف سے پاسورڈ
پوچھتا ہے تو اسی وقت اپنے بنک کو اس کی اطلاع دیں۔

اپنے پاسورڈ تبدیل کرتے رہیں۔ انٹی وایرس سافٹ ویر کو ہمیشہ فعال اور اپ ڈیٹ رکھیں۔ پبلک کمپیوٹر کو استعمال کرتے وقت پاسورڈ محفوظ نہ کریں۔ اور کام ختم کرنے کے بعد لوگ آف کرنا مت بھولیں۔ پاسورڈ کہیں لکھنے سے گریز کریں کوشش کریں کہ آپ کے پاسورڈ آپ کو یاد رھیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ اس پوسٹ سے آپ مستفید ھوے ھوں گے۔ آپ کی آراء ھمیں زیادہ بہتر کام کرنے میں مدد کریں گی۔

No comments:

Post a Comment